بنیادی صفحہ / افسانے/ کہانیاں

افسانے/ کہانیاں

مہا لکشمی کا پل ۔۔۔۔۔ کرشن چندر

krishnchander

‫مہا لکشمی اسٹیشن کے اس پار مہا لکشمی جی کا ایک مندر ہے اسے لوگ ریس کورس بھی کہتے ہیں ، اس مندر میں پوجا کرنے والے لوگ ہارتے زیادہ ہیں  جیتتے کم ہیں ، مہا لکشمی کے اسٹیشن کے اس پار ایک بہت بڑی بدرو ہے جو انسانی جسموں کی غلاظت کو اپنے متعفن پانیوں میں گھولتی ہوئی شہر ...

مزید پڑھیں »

کچرابابا ۔۔۔ کرشن چندر

krishnchander

جب وہ ہسپتال سے باہر نکلا تو اس کی ٹانگیں کان رہی تھیں اور اس کا سارا جسم بھیگی ہوئی روئی کا بنا معلوم ہوتا تھا اور اس کا جی چلنے کو نہیں چاہتا تھا وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھ جانے کو چاہتا تھا۔ قاعدے سے اسے ابھی تک ایک ماہ اور ہسپتال میں رہنا چاہئیے تھا مگر ہسپتال والوں ...

مزید پڑھیں »

ایرانی پلائو ۔۔۔ کرشن چندر

krishnchander

آج رات اپنی تھی، کیونکہ جیب میں پیسے نہیں تھے ، جب جیب میں تھوڑے سے پیسے ہوں رات مجھے اپنی نہیں معلوم ہوتی، اس وقت رات میرین ڈرائیو پر تھرکنے والی گاڑیوں کی معلوم ہوتی ہے ، جگمگاتے ہوئے فلیٹوں کی معلوم ہوتی ہے ، ایمبسڈر کی چھت پر ناچنے والوں کی معلوم ہوتی ہے ، لیکن آج رات ...

مزید پڑھیں »

اپنے دکھ مجھے دے دو ۔۔۔۔ راجندر سنگھ بیدی

bedi

اندو نے پہلی بار ایک نظر اوپر دیکھتے ہوئے پھر آنکھیں بند کر لیں اور صرف اتنا سا کہا۔ “جی” اسے خود اپنی آواز کسی پاتال سے آئی ہوئی سنائی دی۔ دیر تک کچھ ایسا ہی ہوتا رہا اور پھر ہولے ہولے بات چل نکلی۔ اب جو چلی سو چلی۔ وہ تھمنے ہی میں نہ آتی تھی۔ اندو کے پتا، ...

مزید پڑھیں »

آنندی ۔۔۔۔ غلام عباس

ghulam-abbas

 بلدیہ کا اجلاس زوروں پر تھا۔ ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور خلافِ معمول ایک ممبر بھی غیر حاضر نہ تھا۔ بلدیہ کے زیرِ بحث مسئلہ یہ تھا کہ زنان بازاری کو شہر بدر کر دیا جائے کیونکہ ان کا وجود انسانیت، شرافت اور تہذیب کے دامن پر بد نما داغ ہے۔ بلدیہ کے ایک بھاری بھرکم رکن جو ...

مزید پڑھیں »

آخری آدمی ۔۔۔۔۔۔ انتظار حسین

intizar-hussain

الیاس اس قریے میں آخری آدمی تھا۔ اس نے عہد کیا تھا کہ معبود کی سوگند میں آدمی کی جون میں پیدا ہوا ہوں اور میں آدمی ہی کی جون میں مروں گا۔ اور اس نے آدمی کی جون میں رہنے کی آخر دم تک کوشش کی۔ اور اس قریے سے تین دن پہلے بندر غائب ہو گئے تھے۔ لوگ پہلے ...

مزید پڑھیں »

ذرا ہور اوپر ۔۔۔۔ واجدہ تبسم

wajida

نواب صاحب نوکر خانے سے جھومتے جھامتے نکلے تو اصلی چنبیلی کے تیل کی خوشبو سے ان کا سارا بدن مہکا جا رہا تھا۔ اپنے شاندار کمرے کی بے پناہ شاندار مسہری پر آ کر وہ دھپ سے گرے تو سارا کمرہ معطر ہو گیا…. پاشا دولہن نے ناک اٹھا کر فضا میں کچھ سونگھتے ہی خطرہ محسوس کیا۔ اگلے ...

مزید پڑھیں »

اترن ۔۔۔ واجدہ تبسم

wajida

’’نکو اللہ، میرے کو بہوت شرم لگتی۔‘‘ ’’ایو اس میں شرم کی کیا بات ہے؟ میں نئیں اتاری کیا اپنے کپڑے؟‘‘ ’’اوں …. چمکی شرمائی۔‘‘ ’’اب اتارتی کی بولوں انا بی کو؟‘‘ شہزادی پاشا جن کی رگ رگ میں حکم چلانے کی عادت رچی ہوئی تھی، چلا کر بولیں۔ چمکی نے کچھ ڈرتے ڈرتے، کچھ شرماتے شرماتے اپنے چھوٹے چھوٹے ...

مزید پڑھیں »

زکوٰۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واجدہ تبسم

wajida

چاند آسمان پر نہیں نیچے زمین پر جگمگا رہا تھا! نواب زین یار جنگ کے برسوں پہلے کسی شادی کی محفل میں ڈھولک پر گاتی ہوئی میراثنوں کے وہ بول یاد آ گئے: کیسے پاگل یہ دنیا، کے لوگاں ماں۔ چھت پوکائے کو تو جاتے یہ لوگاں ماں۔ آنکھا کھلے رکھو تاکا جھانکی نکو۔ اپنے آنگن کو دیکھو ماں …. ...

مزید پڑھیں »