’کائنات‘ کا شمار ہ  79  آپ کے اسکرین پر موجود ہے۔ یہ دراصل اکتوبر اور نومبر کا مشترکہ شمارہ ہے۔بعض مصروفیات کی بنا پر اکتوبر کا شمارہ شائع نہیں ہو سکا تھا۔

اس شمارے کی ابتدا ڈاکٹرامام اعظم کی حمد پاک اور احمد صفی کی نعت پاک سے ہوتی ہے۔ قارئین کو بتاتا چلوں کہ احمد صفی دراصل مرحوم ابن صفی صاحب کے فرزند ہیں جو امسال حج کے لئے گئے تھے اور اس نعت کی شکل میں انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔

بطورخاص‘  سیکشن میں اس ماہ  ہری پور، پاکستان کے طاہر گل اپنی بارہ غزلوں کے ساتھ موجود ہیں۔ اس کے علاوہ منظوم سیکشن کے لئے اس ماہ  میاں محمد اعظم، افتخار راغب، شمشیر حیدر، شفیق ساحل، مصداق اعظمی، مرغوب اثر فاطمی ، قیصر ضیا قیصرؔ اور مسرت حسین عازمؔ کی غزلوں کا انتخاب کیا گیا ہے جن کے ساتھ ساتھ حنیف ترین کی نظم ، یعقوب تصور کے قطعات اور فراغ روہوی کی رباعیات بھی شامل کی گئی ہیں۔

نثری سیکشن میں اس ماہ شموئل احمد، منزہ احتشام گوندل اور ساجد خاں کے افسانے اور تمنا شاہین، عظیم انصاری اور بشیر احمد سوز کے نہایت ہی اہم و معلوماتی مضامین اور خورشید احمد عون کا انشائیہ  شامل کئے گئے ہیں۔  

تبصرے کی سیکشن میں اس ماہ  شان بھارتی کے شعری مجموعے ’’ندی کا جب کنارہ ڈوبتا ہے‘‘ پر  عظیم انصاری کا سیر حاصل تبصرہ پیش کیا گیا ہے۔

مجھے امید ہے کہ گزشتہ شماروں کی طرح ’کائنات‘ کا یہ شمارہ بھی آپ کو پسند آئے گا۔
آپ کی قیمتی آراء کا انتظار رہے گا۔
خورشید اقبال                   
                    چیف ایڈیٹر ، ماہنامہ کائنات            

ادارئیے کو آپ کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟